ہوناور 28 / اکتوبر (ایس او نیوز) 2018 سے پہلے جن زمینوں کا جی پی ایس ہو چکا ہے ایسے قبضہ داروں کو کسی بھی قیمت پر ہٹانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ یہ بات وزیر برائے ماہی گیری و ضلع انچارج منکال وئیدیا نے کہی۔شہر کے منی ودھان سودھا میں مختلف محکمہ جات کے افسران کی موجودگی میں عوام کا احوال سنتے ہوئے ااور ان کے مسائل حل کرنے کے تعلق سے افسران کو ہدایات دینے کے بعد وہ اخبارنویسوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے۔
منکال وئیدیا نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ سالوں سے عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ نہیں دی گئی تھی اور مختلف محکمہ جات کے تحت عوام کے جو کام ہونے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ۔ اس پس منظر میں عوام کے مسائل کے تعلق سے میں نے تفصیلات حاصل کیں ہیں ۔ ان کی طرف سے صرف درخواست قبول کرنا اور میری طرف سے ان کا کام پورا نہ ہونے جیسا رویہ میرا نہیں ہے ۔ اس مقصد سے میں نے محکمہ جاتی افسران کی موجودگی میں عوام کے مسائل کی جانکاری حاصل کی ہے اور اس سمت میں اقدام کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
جنگلاتی زمین پر قبضہ داروں کو ہٹانے کے معاملے پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے صاف کہا کہ 2018 سے پہلے جن زمینوں کا جی پی ایس ہو چکا ہے ایسے قبضہ داروں کو کسی بھی قیمت پر ہٹانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جب کاسرکوڈ کی تجارتی بندرگاہ سے متعلق پوچھا گیا تو وزیر موصوف نے جواب دیا کہ یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اس لئے میں اس پر کچھ کہہ نہیں سکتا ۔ کوئی بھی منصوبہ کیوں نہ ہو، وہ عوام کی سہولت کے لئے ہونا چاہیے، مقامی لوگوں نے جب اس کی مخالفت کی ہے تو پھر میں اس پر کچھ کہنا نہیں چاہتا ۔ کوئی بھی کام عوام مخالف نہیں ہونا چاہیے ۔
منکال وئیدیا نے ملٹی اسپیشالٹی ہاسپٹل کے تعلق سے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر حکومت یہ ہاسپٹل تعمیر نہیں کرتی تو پھر میں خود ہی تعمیر کروں گا۔ میں آج بھی اس بات پر قائم ہوں ۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ وہ شراوتی بیلٹ میں پینے کے پانی اور صحت عامہ کے تعلق سے بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونے دیں گے ۔